رحمتِ حق کا خزانہ مل گیا

رحمتِ حق کا خزانہ مل گیا

آپؐ کا عشقِ یگانہ مل گیا


در بدر ہونے کا مجھ کو ڈر نہیں

مل گیا مجھ کو ٹھکانہ مل گیا


ہم غریبوں ، بے نواؤں کے لئے

شاہِ دیںؐ کا آستانہ مل گیا


رفعتیں اس کا مقدر ہو گئیں

جس کو حرفِ عاجزانہ مل گیا


اک زمانہ ہو گیا اُنؓ کا غلام

آپؐ کا جن کو زمانہ مل گیا


نعت کی توفیق کیا مجھ کو ملی

میری بخشش کا بہانہ مل گیا


آپؐ کے صدقے جہاں کو بالیقیں

اک نظامِ عادلانہ مل گیا


ہو گیا اشفاقؔ جو اُنؐ کا غلام

اس کو ذوقِ عارفانہ مل گیا

شاعر کا نام :- اشفاق احمد غوری

کتاب کا نام :- صراط ِ نُور

دیگر کلام

شاہ کی تصویر ہر درپن میں ہے

آیا آیا مہ ذوالحج دا

کتھے جاوے ایہہ اوگنہار تیرا

حبیبِ خدا عرش پر جانے والے

تجھ پہ سر و سمن وار دوں

شاہؐ کے فیض سے انسان کا ہر کام چلا

کیا لطف ہے سخن کا اگر چشم تر نہ ہو

پر نور نہ ایماں کی ہو تصویر تو کہیے

آقاؐ کی ہم سجاتے ہیں محفل خوشی خوشی

محمد مصطفےٰ ﷺ صَلِ علیٰ تشریف لے آئے