بنا جو عزم کی پہچان حق کے دیں کیلئے

بنا جو عزم کی پہچان حق کے دیں کیلئے

کریں تو کیا بھلا ہم نذر اُس حسیں کیلئے


ہے شہرہ غیرتِ دینی کا آسمانوں میں

ادائے عدل نمونہ بنی زمیں کیلئے


تیری سیرت ترے افکار بھی لازم ٹھہرے

راہِ عرفاں کے لیے منزلِ یقیں کیلئے


معترف ہو گئے حکمت کے سبھی دانشور

مشعلِ راہ تدبر ہے سلاطیں کیلئے


جو شاہِ دین کی عزت کا پہرے دار رہا

جھکے ہیں سر دلِ آقاؐ کے اُس مکیں کیلئے


اُسی کے نام سے لرزا ہے کفر پر طاری

اُسی کا ذکر ہے مرہم دلِ خزیں کیلئے


دعائیں دِل سے ہمارے بھلا نہ کیوں نکلیں

اُس ایک دیدہ وَر و رہبر و امیں کیلئے


شکیلـؔ اب بھی خمیدہ ہے عظمت و حشمت

وارثِ دین ترے عزم کی جبیں کیلئے

شاعر کا نام :- محمد شکیل نقشبندی

کتاب کا نام :- نُور لمحات

دیگر کلام

نام سن کے آگیاں سخیا تیرے در بار دا

ہمیشہ جوش پر نظر کرم ہے میرے خواجہ کا

حسینؑ ابنِ علی تجھ پر شہادت ناز کرتی ہے

حجابِ خُلق۔۔۔۔۔۔ ۱

اشقیا کے نرغے میں یوں حسین تھا تنہا

اس قدر تیری حرارت مرے ایمان میں آئے

سادات کا نشاں ہیں مشرف حسین شاہ

گلزار محبت کی فضا میرے لئے ہے

عرش بر دوش پایانِ حسّان ہے

اک دن بڑے غرور سے کہنے لگی زمیں