علی کے عشق کا بیمار بیمارِ محمدؐ ہے

علی کے عشق کا بیمار بیمارِ محمدؐ ہے

علی کا چاہنے والا طلبگارِ محمدؐ ہے


علی کی گفتگو واللہ گفتارِ محمدؐ ہے

علی المرتضیٰ کی دید دیدار محمدؐ ہے


زمانہ جانتا ہے آپ نے کیا کیا نہیں پایا

کِسی نے بھی نہیں پایا جو پایا آپ نے پایا


حسینؓ ابن علی کے سر پہ ہے اللہ کا سایا

گدائے کوچہء شبیر دلدارِ محمّؐد ہے


سخی ایسے کہ جن پر خود سخاوت ناز کرتی ہے

امام ایسے کہ جن پر خود امامت ناز کرتی ہے


شہید ایسے کہ جن پر خود شہادت ناز کرتی ہے

جو سچ پوچھو تو یہ دربار دربارِ محمدؐ ہے


مٹے ایسے کہ مٹ کر پھر شجاعت زندہ کرڈالی

حمیت زندہ کر ڈالی صداقت زندہ کر ڈالی


رسُولِ پاکؐ کی اعظم شریعت زندہ کر ڈالی

اسے کہتے ہیں عاشق یہ وفادارِ محمد ہے

شاعر کا نام :- محمد اعظم چشتی

کتاب کا نام :- کلیاتِ اعظم چشتی

بے خود کئے دیتے ہیں انداز حجابانہ

نورِ ازلی چمکیا غائب ہنیرا ہوگیا

یامصطَفٰے عطا ہو اب اِذن، حاضِری کا

وجودِ ارض و سما ہے تم سے

دل میں ہے خیال رخ نیکوئے محمدﷺ

اغر علیہ للنبوتہ خاتم

جز اشک نہیں کچھ بھی اب قابلِ نذرانہ

ہو کرم سرکارﷺ اب تو ہو گۓ غم بے شمار

کونین میں یُوں جلوہ نُما کوئی نہیں ہے

اے ہادئ دارین، مقدّر گرِ آفاق