کوثر کی حلاوت ہے مری تشنہ لبی میں

کوثر کی حلاوت ہے مری تشنہ لبی میں

مصروف ہوں میں مدحِ رسُولِؐ عربی میں


تنہائی میں دمساز ہے اُس مہ کا تصوّر

کیوں موجِ ضیا ہو نہ مری تیرہ شبی میں


ہے حُسن بھی ، اخلاق بھی ، رحمت بھی ، کرم بھی

مکّی ، مَدنی ، ہاشمی و مطّلبی میں


ہر حُسن کا محور ہے وہ اک ذاتِ مقدّس

ہر علم کا جوہر ہے اُس اُمّی لقبی میں


ہر ذرّہ نظر آتا ہے خورشید بداماں

جلوے ہیں کئی طُور نما کوئے نبیؐ میں


کِس آنکھ نے دیکھا ہے کوئی آپؐ کا ہمسر

کس کو ہے کلام آپ کی عالی نسبی میں


اے چشم کَرم ، تیری مسیحائی کے قرباں

ہے کوئی کمی میری ہی درماں طلبی میں


اعظؔم بڑی نعمت ہے یہ رونا ، یہ تڑپنا

شامل ہے مرا درد سکونِ قلبی میں

شاعر کا نام :- محمد اعظم چشتی

کتاب کا نام :- کلیاتِ اعظم چشتی

دیگر کلام

جگت گرُو مہاراج ہمارے ، صلّی اللہ علیہ وسلم

جو غلامانِ آلؓ ہوتے ہیں

قیامت ہے اب انتظارِ مدینہ

فلک اُن سے فضا اُن سے نجوم و ماہتاب اُن سے

گئے ٹُر چھڈ کے مینوں سب سفینے یا رسول اللہ

سایہ کیسا ہے نور کے پیچھے

کالی کملی والے

جینے کے آثار ملے ہیں

خردِ ارض و سما سیّد مکی مدنی ؐ

نبیؐ دے در تے جے ہووے رسائی