مجھ کو محبوب خدا کے عشق کا آزار ہے

مجھ کو محبوب خدا کے عشق کا آزار ہے

کر سکے اچھا مسیحا یہ بہت دشوار ہے


وہ نبی کا ہے جسے آل نبی سے پیار ہے

جس سے خوش ہے کملی والا اس کا بیڑا پار ہے


روز گلدستے سجاؤ تم درود پاک کے

یہ نہ ہو تو خلد میں جانا بڑا دشوار ہے


مسکرا ئینگے امیدوں کے ہر اک دل میں چمن

جھولیاں بھر جائینگی یہ محفل سرکار ہے


پل سے گذرے گا یقیناً وہ بلا خوف و خطر

جس کے سینے میں نہاں عشق شہ ابرار ہے


شکوہ غم اہل دنیا سے کروں میں کس لئے

مہرباں ایسا ملا ہے جو بڑا غم خوار ہے


جھولیاں بن مانگے بھر جاتی ہیں سب کی جس جگہ

وہ مدینے والے آقا کا سخی دربار ہے


سکہ عقل و خرد چلتا نہیں ہے اس جگہ

نقد جاں لاؤ یہاں یہ عشق کا بازار ہے


کون ہے تیرے سوا دنیا میں میرا یا نبی

تو نہ ہو تو زندہ رہنا بھی یہاں دشوار ہے


کیا ستائے گی نیازی گردش دوراں مجھے

اس کو کیا غم جو غلام سید ابرار ہے

شاعر کا نام :- عبدالستار نیازی

کتاب کا نام :- کلیات نیازی

دیگر کلام

کدی در در تے اوہ نہیں جاندے جو اک در دے دیوانے نے

کہوں کیاحال زاہد گلشنِ طیبہ کی نزہت کا

حضور لطف و عطا کا کمال رکھتے ہیں

ہے کلامِ الہٰی میں شَمس و ضُحٰے

کوئی لمحہ بھی تیرے ذکر سے خالی نہ ہوا

نہ صرف قلبِ تپاں کی ہے تازگی کے لیے

دربار رسالت کی کیا شان نرالی ہے

ہو گیاں رو رو کے اکھّیاں لالی کملیؐ والیا

میں یہ سمجھوں گا کہ آنکھوں کی نمی کام آگئی

گھیرے ہوئے ہیں رنج و مصائب غم و الم