خوشبؤں کا نگر نکہتوں کی ڈگر

خوشبؤں کا نگر نکہتوں کی ڈگر

شاہ برکت کا گھر اچھے ستھرے کا در

نوری شام و سحر فیضِ طیبہ نگر

ذرہ ذرہ یہاں ضوفشاں

مارہرہ مارہرہ میرا مارہرہ


روح کی راحتیں ہرقدم فرحتیں

دم بدم رحمتیں طلعتیں نزہتیں

برکتی ساعتیں نوری آسائشیں

ہر طرف چار سو نور افشانیاں

مارہرہ مارہرہ میرا مارہرہ


عکسِ بغداد ہے فیضِ اجمیر ہے

معرفت کی یہاں سیر ہی سیر ہے

مہرباں سرزمیں شہر صد خیر ہے

قادری چشتی سنگم یہاں

مارہرہ مارہرہ میرا مارہرہ


ہے شریعت یہاں اور طریقت یہاں

خاندانِ نبی کی نجابت یہاں

مصطفیٰ کے گھرانے کی نسبت یہاں

جس طرف دیکھیے نور پیشانیاں

مارہرہ مارہرہ میرا مارہرہ


عرسِ سید ہو یا عرسِ نوری میاں

نعت کی بزم ہو یا ہو وعظ و بیاں

ذکرِ احمد رضا ہر زباں پر رواں

بن گیا بن گیا مرکز سنیاں

مارہرہ مارہرہ میرا مارہرہ


علم اور فضل کا مرکزِ عالیہ

قادری نوریہ چشتی برکاتیہ

ہے ولایت کا یہ چشمہء جاریہ

زہد و تقویٰ کی نہر رواں

مارہرہ مارہرہ میرا مارہرہ


اپنی دھرتی کے گن نظمی گاتا رہے

رنگ اپنے قلم کا دکھاتا رہے

نعت کی محفلیں بھی سجاتا رہے

ساری دنیا کو بس یہ بتاتا رہے

ارضِ مارہر ہ ہے فخرِ ہندوستاں


مارہرہ مارہرہ میرا مارہرہ

کتاب کا نام :- بعد از خدا

دیگر کلام

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

آمِنہ عطاریہ حج کو چلے اُمّید ہے

اہلِ چمن اٹھو کہ پھر آئی بہار آج

بعدِ رَمضان عید ہوتی ہے

کیوں ہیں شاد دیوانے! آج غسل کعبہ ہے

محفوظ ہے اَجے تائیں قیادت دا فیصلہ

ماہ و انجم کو پرو کر جو بنایا سہرا

جسے جو چاہیے اے کبریا دے

اے کہ تُو رگ ہائے ہستی میں ہے مثلِ خُوں رواں

راتوں کی بسیط خامشی میں