بخت والوں کو مدینے میں ٹھکانہ مل گیا

بخت والوں کو مدینے میں ٹھکانہ مل گیا

مغفرت کا دیکھئے کیسا بہانہ مل گیا


کیوں نہ یارو جھوم کر پڑھتے رہیں اُنؐ پر درود

ہم گنہگاروں کو کیا اچھا ترانہ مل گیا


اُنؐ کے اسمِ پاک سے وابستگی جن کو ملی

جنتِ فردوس میں اُن کو ٹھکانہ مل گیا


جب بھی عشقِ مصطفی ؐ میں ڈوب کر نعتیں سنیں

دل کی دھڑکن کو سرورِ جاودانہ مل گیا


ایک لمحے کی خوشی طیبہ میں حاصل کیا ہوئی

یوں لگا جیسے مجھے سارا زمانہ مل گیا


میرے آقاؐ کی گدائی کا شرف جس کو ملا

رحمتِ ربّ کا اُسے فیضیؔ خزانہ مل گیا

شاعر کا نام :- اسلم فیضی

کتاب کا نام :- سحابِ رحمت

ہر روز شبِ تنہائی میں

اِس خدائی میں دِکھاؤ جو کہیں کوئی ہو

غم ہو گئے بے شمار آقا

جلوہ فطرت، چشمہ رحمت، سیرتِ اطہر ماشاءاللہ

ہیں زمیں فلک کی جو رونقیں

سب توں وڈا اللہ سوہنا

اعمال کے دَامن میں اپنے

سرورِ ذیشان شاہِ انبیاء یعنی کہ آپ

ہم کو اپنی طلب سے سوا چایئے

مجھ کو تو اَپنی جاں سے بھی