گر تیرے پاس خود کی ہے پہچان

گر تیرے پاس خود کی ہے پہچان کی سند

ذاتِ خدا کے ہے یہی عرفان کی سند


حبِ رسولِ پاک جو دل میں ہے جا گزیں

الحمد ! میرے پاس ہے ایمان کی سند


مجھ کو نعوتِ نور کی توفیق مل گئی

دنیا میں گویا مل گئی غفران کی سند


لایا ہوں اپنے ساتھ جو کہتا رہا ہوں میں

اپنی لحد میں نعت کے دیوان کی سند


دنیا میں ان کو مان کے خود کو سنوارلو

کافی ہے ان کے پاس تو رحمٰن کی سند


ان کو جو لا مکان کی قربت میں لے گئی

محبوبیت ہے عرش کے مہمان کی سند


اک بار پھر بلائیں گے آقا مجھے ضرور

اندر سے مل رہی ہے یہ وجدان کی سند


اپنے نبی کی ذات پہ پڑھ کر درودِ پاک

لے کر چلوں گا حشر کے سامان کی سند


اللہ کی ، حضور کی ، چاہیں اگر رضا

اکرامِ اہلِ بیت ہے انسان کی سند


دن رات میرے لب پہ ہے ان کی ثنا جلیل

جن کی ثنا میں اتری ہے قرآن کی سند

شاعر کا نام :- حافظ عبدالجلیل

کتاب کا نام :- مشکِ مدحت

دیگر کلام

اک جاں نواز خوشبو محسوس کر رہا ہوں

مِرے سرکار کے جیسا رخِ انور کسی کا ہے ؟

رحمت کا ہے دروازہ کھلا مانگ ارے مانگ

سُروُر رہتا ہے کیفِ دوَام رہتا ہے

ذکر ہے ایہہ سید ابرار دا

امام ِ جُملہ رُسل گلبنِ ریاضِ خلیل

سارے جگ توں نرالیاں دسدیاں نے

محمد مصطفےٰ اللہ کے ہیں رازداروں میں

دلوں کی تہہ میں پوشیدہ محبّت دیکھنے والا

تُمھارے نور سے روشن زمانہ یا رسول اللہ