نبیؐ کی نسبت سے ہو رہی ہے

نبیؐ کی نسبت سے ہو رہی ہے ہر ایک شانِ خدا نمایاں

سبھی نے مجھ کو گلے لگا یا کرم جب ان کا ہوا نمایاں


انہیں سے ہر ابتدا ہوئی ہے انہیں پہ ہر انتہا بھی ہوگی

وہی ہیں وجہِ وجودِ ہستی ازل سے ہیں مصطفےٰ نمایاں


وَماَ رَ مَیتَ بھی اک کنا یہ ہے وَحیٌّ یُو حیٰ بھی اک اشا را

قسم خدا کی کلامِ حق سے ہے آپ کی ہر ادا نمایاں


جہاں میں جتنے رسول آئے تمہارے جلوے ہی ساتھ لائے

تمامتر واسطوں میں آقا ہے آپؐ کا واسطہ نمایاں


تمھی سے ہے رنگِ کیف و مستی تمہیں سے ہستی ہے میری ہستی

نہیں مرا کوئی وصف ذاتی کرم ہے سب آپؐ کا نمایا ں


جوان کے سائے میں آگیا ہے وہ ساری دنیا پہ چھا گیا ہے

ہمیں ہر اک منزلِ شرف میں وہی ملا برملا نمایا ں


انہیں کو چاہو انہیں سے مانگو انہیں سے دن رات لَو لگاؤ

درود ان پر سلام ان پر وہی تو ہیں جا بجا نمایاں


فضائے عرشِ بریں سے پوچھو جلالِ حشر آفریں سے پوچھو

ہیں جیسے میرے نبیؐ نمایاں نہیں کوئی دوسرا نمایاں


وجود جن کا وجود ہستی نمو د جن کی نمودِ ہستی

انہی کی مدحت نے مجھ کو خالدؔ برنگِ مدحت کیا نمایاں


۔۔۔

شاعر کا نام :- خالد محمود خالد

کتاب کا نام :- قدم قدم سجدے

دیگر کلام

اب تو بس ایک ہی دُھن ہے کہ مدینہ دیکھوں

سر تا بقدم ہے تن سُلطانِ زَمن پھول

تیرا مجرم آج حاضر ہو گیا دربار میں

خانہ کعبہ کی طرف جھکتے ہیں ہم

دل تڑپنے لگا اشک بہنے لگے

نورِ عرفاں نازشِ پیغمبری اُمّی نبیؐ

میرے مولا میرے سروَر رحمۃٌ لِّلْعالمیں

الفتوں کا دائرہ ہے اور میں

شان اُچا اے عرش معلی توں وی

پھر مدینہ دیکھیں گے، پھر مدینے جائیں گے