اترے وہ اِس طرح مرے خواب و خیال میں
رونق سی لگ گئی دلِ آشفتہ حال میں
حسنِ شہِ عرب کی ہیں تابانیاں جدا
خورشید تیرتا ہے رخِ پُر جمال میں
فیضان ہے یہ ناخنِ پائے حضور کا
یونہی کشش نہیں ہے وجودِ ہِلال میں
جب دیکھتے تھے شہرِ نبی اٹھتے بیٹھتے
دن کام کے وہی تھے مرے ماہ و سال میں
پھونکیں حسد کی جس کو نہ ہر گز بُجھا سکیں
محوِ سفر وہ نور ہے حضرت کی آل میں
کیسے بھلا سمجھ لوں تجھے خود سا اِک بشر
جب کہ کثافتیں ہیں مرے بال بال میں
کر دیجئے حضور تبسم کہ حشر میں
بدلے جلالِ ذاتِ الٰہی جمال میں
شاعر کا نام :- حافظ محمد ابوبکر تبسمؔ
کتاب کا نام :- حسن الکلام فی مدح خیر الانامؐ