یارب یہ تمنّا ہے کہ نازل ہو وہ ہم پر
جو نعت ابھی قرض ہے قرطاس و قلم پر
وہ نام مرے وردِ زباں تھا کہ نظر آئے
انوارِ مدینہ بھی در و بامِ حرم پر
وہ نُورِ جبیں‘ سارے زمانوں کا اُجالا
وہ نقشِ قدم‘ سایہ فگن ہست وعدم پر
طے ہوتی گئی منزلِ اسریٰ کی مسافت
کھُلتے گئے اسرارِ سفر شاہِؐ اُمَم پر
جو کچھ بھی مِلا بخش دیا خلقِ خدا کو
حیراں ہے سخاوت بھی اِس اندازِ کرم پر
کیا شان ہے اے صلِّ علیٰ ابرِ کرم کی
اُٹھتا ہے عرب سے تو برستا ہے عجم پر
توفیق ہے دشوار شریعت نہیں دشوار
قدموں کے نشاں ملتے ہیں ایک ایک قدم پر
آقاؐ مری غفلت کو کرم کی ہے ضرورت
اعمال تو ایسے نہیں تکیہ ہے کرم پر
شاعر کا نام :- حنیف اسعدی
کتاب کا نام :- ذکرِ خیر الانام