غم کے بادَل چھٹیں قافلے میں چلو

غم کے بادَل چھٹیں قافلے میں چلو

خوب خوشیاں ملیں قافلے میں چلو


مال چوری ہوا، یا کہیں گُم گیا

خیر ہوگی سنیں، قافِلے میں چلو


مانگو آ کر دُعا، پاؤ گے مُدَّعا

در کرم کے کُھلیں، قافِلے میں چلو


اچّھی صُحبت ملے، خوب برکت ملے

چل پڑو چل پڑیں قافِلے میں چلو


لُوٹ لیں رحمتیں، خوب لیں برکتیں

خواب اچھے دِکھیں، قافِلے میں چلو


کُفر کی کالکیں، دُور ہوں ظلمتیں

آؤ کوشِش کریں، قافِلے میں چلو


رب کے در پر جُھکیں، التجائیں کریں

بابِ رحمت کُھلیں، قافِلے میں چلو


ہے نبی کی نظر، قافِلے والوں پر

پاؤگے راحتیں قافِلے میں چلو


سادگی چاہئے، عاجزی چاہئے

لینے یہ نعمتیں، قافلے میں چلو


عاشِقانِ رسول، آئے سنّت کے پھول

دینے لینے چلیں، قافِلے میں چلو


دیتے ہیں فیض عام، اَولیائے کرام

لُوٹنے سب چلیں، قافِلے میں چلو


اولیا کا کرم، تم پہ ہو لاجَرَم

خوب جلوے ملیں، قافِلے میں چلو


خواب میں ڈر لگے، بوجھ دل پر لگے

آیئے چل پڑیں، قافِلے میں چلو


غیبی امداد ہو، گھر بھی آباد ہو

لطفِ حق دیکھ لیں، قافِلے میں چلو


تنگدستی مٹے، دور آفت ہٹے

لینے کو بَرکتیں، قافِلے میں چلو


بے عمل باعمل بن گئے خاص کر

آپ بھی دیکھ لیں قافِلے میں چلو


خوب ہوگا ثواب اور ٹلے گا عذاب

پاؤ گے بخششیں، قافلے میں چلو


بے شک اعمالِ بد اور اَفعالِ بد

کی چھٹیں عادتیں، قافِلے میں چلو


کر سفر آئیں گے، تو سُدھر جائیں گے

اب نہ سستی کریں، قافِلے میں چلو


دل پہ گر زَنگ ہو، سارا گھر تنگ ہو

داغ سارے دُھلیں، قافِلے میں چلو


ایسا فیضان ہو، حِفظ قراٰن ہو

خوب خوشیاں ملیں، قافِلے میں چلو


عاشقِ قافِلہ بن کے گھر لو بنا

قلبِ عطارؔ میں قافلے میں چلو

شاعر کا نام :- الیاس عطار قادری

کتاب کا نام :- وسائلِ بخشش

دیگر کلام

مارکس کے فلسفہء جہد شکم سے ہم کو

نوری آستانے میں ہر قدم پہ برکت ہے

خزاں کی شام کو صبح ِ بہار تو نے کیا

قرآن

قربانیوں کا درس دیا ہے بشیر نے

نوریو آؤ ذرا قاسمی جلسہ دیکھو

خوشبؤں کا نگر نکہتوں کی ڈگر

بہت شدید تشنج میں مبتلا لوگو!

کیوں ہیں شاد دیوانے! آج غسل کعبہ ہے

اے خدا ‘ دِل تو آئنہ سا تھا